نئی دہلی،12/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سرکاری اسکیموں سے فائدے اٹھانے کے لیے آدھار کو لازمی بنائے جانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں 17/مئی کو سماعت ہوگی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے مڈ ڈے میل، ٹھیکہ مزدوروں اور تعلیم کے حق اور اسکالر شپ وغیرہ جیسے فلاحی منصوبوں میں آدھار کو لازمی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف روزی ہے،اس لیے اس نوٹیفکیشن پر عبوری روک لگنی چاہیے۔نوٹیفکیشن کے تحت تمام سرکاری اسکیموں سے فائدے اٹھانے کے لیے آدھار کو لازمی کر دیا گیا ہے، اسکولوں میں مڈڈے میل اور معذور ی پنشن سمیت تمام سرکاری اسکیموں سے فائدے اٹھانے کے لیے آدھار اب ضروری ہو گیا ہے۔حالانکہ اس موقع پر مرکزی حکومت نے درخواست پر سماعت کی مخالفت کی۔ایس جی رنجیت کمار نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے آئینی بنچ سماعت کر رہی ہے، لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ دو ججوں کی بنچ صرف عبوری روک پر سماعت کرے گی۔درخواست گزار کے وکیل شیام دیوان نے چیف جسٹس کی بنچ میں کہا کہ 9/مئی کو سپریم کورٹ کی ہی دو ججوں کی بنچ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں درخواست گزار چیف جسٹس کے سامنے ذکر کر سکتے ہیں تاکہ معاملے میں عبوری روک پر سماعت کے لیے بنچ بنانے کا مطالبہ کر سکیں۔سی جے آئی کھیہر نے کہا کہ بنچ 17/مئی کو اس معاملہ پر سماعت کرے گی۔